Such Pakistan

Call Directions Website Contact the business

Such Pakistan Unfiltered truth from Pakistan
News | Awareness | Reality Check 🇵🇰

Subscribe Our Youtube Chanal
https://www.youtube.com/
(2)

02/11/2026

آپ سچ پاکستان کی خبر کہاں سے پڑھتے ہیں ؟

کمنٹ میں بتائیں

27/09/2026

بوجہ ذاتی مصروفیات سچ پاکستان کی تمام سرگرمیاں گزشتہ دو ہفتوں سے تعطل کا شکار رہیں۔

جس کے لئے سچ پاکستان تمام فالورز سے معذرت خواہ ہے۔

کل سے انشاءاللہ سچ پاکستان مستند خبریں ، اشتہارات اور مفاد عامہ کے لئے دیگر مواد نشر کیا جائے گا ۔

آپ ہمارے ساتھ خبروں ، اشتہارات ، بیانات اور سٹوریز شیئر کر سکتے ہیں۔

وٹسپ

+92 0344 9487288

شنکیاری ASA: ریکوری کے نام پر مبینہ ہراسانی، تحقیقات کا مطالبہ۔قرض دار خواتین کے گھروں پر مبینہ فوری دوروں، فون کالز اور...
19/09/2026

شنکیاری ASA: ریکوری کے نام پر مبینہ ہراسانی، تحقیقات کا مطالبہ۔

قرض دار خواتین کے گھروں پر مبینہ فوری دوروں، فون کالز اور غیر ضامن رشتہ داروں سے رابطوں کی شکایات؛ بینک کا ضوابط کی مکمل پابندی کا دعویٰ، اصل حقیقت ریکارڈ سے سامنے لانے کا مطالبہ

شنکیاری:

شنکیاری میں ASA مائیکروفنانس بینک کے ریکوری طریقۂ کار سے متعلق متعدد شہریوں، خصوصاً قرض دار خواتین کی جانب سے شکایات سامنے آنے کے بعد بینک کے مقررہ ریکوری نظام اور عملی طریقۂ کار پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ شکایت کنندگان کا دعویٰ ہے کہ بعض معاملات میں مقررہ قسط کی تاریخ کو ہی صبح 9 بجے کے بعد گھر پر ریکوری عملہ پہنچ جاتا ہے، بار بار فون کالز اور پیغامات بھیجے جاتے ہیں جبکہ بعض شکایات میں غیر ضامن رشتہ داروں سے رابطے اور گھروں پر مبینہ ہنگامہ آرائی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

شہریوں کے مطابق بعض قرض دار خواتین مقررہ تاریخ ہی کو بینکنگ اوقات کے اندر قسط جمع کرانے کی یقین دہانی کراتی ہیں، تاہم اس کے باوجود مبینہ طور پر صبح 9 بجے کے بعد ریکوری عملے کی جانب سے گھریلو دورے شروع کر دیے جاتے ہیں۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ بعض مواقع پر محلے داروں کو بھی معاملے سے آگاہ کیا جاتا ہے جس سے خواتین اور ان کے خاندانوں کو سماجی دباؤ اور سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بعض شکایات میں ASA مائیکروفنانس بینک شنکیاری سروس سینٹر کے ریکوری افسر محمد بلال کی جانب سے غیر ضامن رشتہ داروں کے گھروں پر جا کر مبینہ طور پر شور شرابا کرنے اور ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ تاہم متعلقہ افراد کے خلاف حتمی ذمہ داری کا تعین کسی باقاعدہ انکوائری یا دستیاب ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

بینک مینیجر کا مؤقف

شکایات کے حوالے سے ASA مائیکروفنانس بینک شنکیاری سروس سینٹر کے مینیجر اسد علی سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا۔ اسد علی نے اپنے تحریری جواب میں تمام متعلقہ قواعد و ضوابط اور بینک کے Code of Conduct پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے شکایات میں بیان کردہ طریقۂ کار کی تردید کی۔

اسد علی کے مطابق Due Date پر وزٹ صارف کی سہولت، باہمی رضامندی اور طے شدہ شیڈول کے مطابق کیا جاتا ہے اور کسی صارف کو بلاوجہ بار بار وزٹ کرنا ادارے کی پالیسی نہیں۔ ان کے مطابق ریکوری عملے کو خواتین کی پرائیویسی، چادر و چار دیواری اور مقامی ثقافتی اقدار کے احترام کی سخت ہدایات ہیں جبکہ گھروں پر وزٹ کا وقت صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک مقرر ہے۔

مینیجر کے مطابق نامناسب رویے یا بدسلوکی سے متعلق شکایت موصول ہونے کی صورت میں داخلی سطح پر انکوائری کی جاتی ہے اور الزام ثابت ہونے پر متعلقہ اہلکار کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

تاہم SBP کے ضوابط کیا کہتے ہیں؟

اس معاملے کو محض بینک اور قرض داروں کے باہمی دعووں تک محدود رکھنے کے بجائے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔

۔SBP کی جانب سے 16 مئی 2025 کو جاری کیے گئے Revised Prudential Regulations for Microfinance Banks میں قرض کی وصولی کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار مقرر کیا گیا ہے۔ ان ضوابط کے تحت مائیکروفنانس بینک کو قرض کی وصولی یا ریکوری کے لیے صارف کے گھر یا کاروباری مقام پر جانے سے قبل صارف کو واجب الادا ادائیگی سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور کم از کم 14 دن کا نوٹس خط یا SMS کے ذریعے دینا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی بقایا رقم کی وصولی کے لیے قانون کے مطابق گھر یا کاروباری مقام پر وزٹ کیا جا سکتا ہے۔

یہی ضابطہ ریکوری کے دوران صارف کو نامناسب وقت پر رابطہ کرنے سے گریز، کال کے دوران بینک کی شناخت اور کال کے مقصد کی مناسب وضاحت اور قانونی و قابل قبول کاروباری زبان اور پیشہ ورانہ رویے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔

9 بجے کی مبینہ ڈیڈ لائن، اصل سوال کیا ہے؟

شنکیاری کے بعض شہریوں کی شکایت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مقررہ تاریخ کو صبح 9 بجے کو عملی طور پر ادائیگی کی آخری حد قرار دے کر اس کے فوراً بعد گھر پر ریکوری وزٹ کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر قسط کی اصل مقررہ تاریخ وہی دن ہے اور صارف کو اسی دن بینکنگ اوقات میں ادائیگی کی اجازت حاصل ہے، تو کیا صرف صبح 9 بجے تک ادائیگی نہ ہونے کی بنیاد پر گھر کا ریکوری وزٹ SBP کے مقررہ 14 روزہ نوٹس کے تقاضے پورے کیے بغیر کیا جا سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب محض زبانی بیانات سے نہیں بلکہ متعلقہ صارفین کو بھیجے گئے SMS، خطوط، نوٹس، کال لاگز، Visit Reports اور ادائیگی کے ریکارڈ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ریکوری کالز اور وزٹ رپورٹس بھی اہم ثبوت

۔SBP کے Revised Prudential Regulations کے مطابق مائیکروفنانس بینکوں کو collection calls کا مناسب ریکارڈ رکھنا ہوگا، جبکہ گھر یا کاروباری مقام پر کیے گئے دوروں کی Visit Reports کم از کم چھ ماہ تک ہارڈ کاپی یا الیکٹرانک collection system میں محفوظ رکھنا لازم ہے۔

لہٰذا اگر شنکیاری میں کسی قرض دار کے گھر ریکوری وزٹ کیے گئے ہیں تو ہر وزٹ کی تاریخ، وقت، مقصد، متعلقہ اہلکار، صارف سے رابطے کی تفصیل اور دیگر متعلقہ معلومات ریکارڈ میں موجود ہونی چاہئیں۔

یہی ریکارڈ اس دعوے کی بھی جانچ کر سکتا ہے کہ آیا وزٹس باقاعدہ طریقۂ کار کے تحت ہوئے یا کسی صارف کو مقررہ وقت سے قبل یا بلاجواز بار بار ریکوری کا سامنا کرنا پڑا۔

غیر ضامن رشتہ داروں سے رابطہ؛ ضابطے میں کیا ہے؟

شکایات کا ایک اور اہم پہلو غیر ضامن رشتہ داروں سے مبینہ رابطے کا ہے۔

۔SBP کے ضوابط میں واضح کیا گیا ہے کہ collection staff قرض دار کے خاندان کے افراد کو ہراساں نہیں کرے گا۔ تاہم اگر پہلے missed payment کے بعد قرض دار سے 30 دن تک رابطہ نہ ہو سکے تو family، friends یا کسی third party سے ضروری معلومات حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

اس لیے کسی غیر ضامن رشتہ دار سے محض رابطہ ہونے اور اسے مبینہ طور پر ادائیگی کے لیے دباؤ، دھمکی یا ہراسانی کا سامنا ہونے میں قانونی و ضابطہ جاتی فرق موجود ہے۔ اس فرق کا تعین بھی متعلقہ کال ریکارڈ، وزٹ رپورٹ، گواہوں اور دیگر شواہد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

ذاتی معلومات کے استعمال پر بھی ضابطہ موجود

۔SBP کے Revised Prudential Regulations کے مطابق مائیکروفنانس بینکوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ recovery staff صارفین کا ذاتی ڈیٹا ان کی پیشگی منظوری کے بغیر منتقل یا غلط استعمال نہ کرے اور صارف یا قرض دار سے متعلق فراہم کردہ معلومات مناسب طور پر دستاویزی شکل میں محفوظ کی جائیں۔

یہ شق ان شکایات کے تناظر میں بھی اہم ہے جن میں قرض داروں کی جانب سے محلے داروں یا رشتہ داروں کو مبینہ طور پر قرض کی معلومات بتانے یا ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

بینک کے لیے داخلی شکایت اور نگرانی کا نظام بھی لازم

۔SBP کے مطابق مائیکروفنانس بینکوں کو recovery/collection staff کے لیے قانونی طرزِ عمل کا Code وضع کرنا، recovery staff کے خلاف شکایات کے ازالے کا واضح طریقہ کار قائم کرنا اور اپنے recovery procedures کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

۔SBP نے مئی 2025 میں واضح کیا تھا کہ Revised Prudential Regulations مائیکروفنانس بینکوں کے لیے کم از کم ریگولیٹری معیار مقرر کرتے ہیں اور عدم تعمیل متعلقہ قانونی و ریگولیٹری کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔

بعد ازاں SBP نے اکتوبر 2025 میں Business Conduct and Fair Treatment of Consumers Regulatory Framework (BC&FRF) بھی جاری کیا، جس کا مقصد مالیاتی اداروں میں ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل اور صارفین کے منصفانہ برتاؤ کے فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔ SBP کے مطابق اس فریم ورک کی خلاف ورزی بھی متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔

شکایت کہاں کی جا سکتی ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کے صارفین کے لیے پہلے متعلقہ ادارے کے Complaint Management Unit سے رجوع کرنا بنیادی طریقۂ کار ہے۔ مائیکروفنانس بینکوں سے متعلق شکایات کے لیے صارفین SBP سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ SBP اپنی Consumer Protection کے تحت مالیاتی اداروں کے خلاف صارفین کی شکایات اور Fair Treatment سے متعلق معاملات دیکھتا ہے۔

۔SBP کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق مائیکروفنانس بینکوں کے صارفین ایسے معاملات میں SBP سے رجوع کر سکتے ہیں، جبکہ Banking Mohtasib Pakistan کے دائرۂ اختیار سے مائیکروفنانس صارفین خارج ہیں۔

شنکیاری میں سامنے آنے والی شکایات کے معاملے میں فی الحال ایک طرف متعدد شہریوں کے دعوے ہیں جبکہ دوسری طرف ASA مائیکروفنانس بینک کے شنکیاری سروس سینٹر مینیجر اسد علی کی جانب سے قواعد کی پابندی اور نامناسب رویے کی تردید موجود ہے۔

اس صورت حال میں کسی فریق کو محض الزام یا تردید کی بنیاد پر قصوروار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم معاملے کی شفاف حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کی جا سکتی ہے،

بالخصوص:

- کیا متعلقہ قرض داروں کو ریکوری وزٹ سے قبل SBP ضوابط کے مطابق کم از کم 14 دن کا نوٹس دیا گیا؟

- کیا نوٹس SMS یا تحریری شکل میں موجود ہیں؟

- کیا مبینہ ریکوری کالز کا ریکارڈ محفوظ ہے؟

- کیا ہر گھریلو وزٹ کی Visit Report موجود ہے؟

- کیا کسی قرض دار یا اس کے خاندان کو نامناسب وقت میں بار بار رابطہ کیا گیا؟

- کیا غیر ضامن رشتہ داروں سے رابطہ ہوا اور اگر ہوا تو اس کا مقصد کیا تھا؟

- کیا کسی صارف کی ذاتی معلومات تیسرے افراد کے سامنے ظاہر کی گئیں؟

- کیا شکایات موصول ہونے کے بعد ASA کے داخلی Complaint Management System کے تحت تحقیقات کی گئیں؟

قرض کی بروقت ادائیگی بلاشبہ صارف کی ذمہ داری ہے اور مالیاتی ادارے کو اپنے واجبات کی وصولی کا حق حاصل ہے، تاہم SBP کے ضوابط کے تحت یہ حق بھی مقررہ طریقۂ کار، پیشہ ورانہ رویے اور صارفین کے تحفظ کے اصولوں کے تابع ہے۔

سچ پاکستان کے مطابق معاملے کا فیصلہ محض الزام اور تردید سے نہیں بلکہ ریکارڈ سے ہونا چاہیے۔ اگر ASA شنکیاری میں ریکوری کے تمام معاملات میں SBP کے مقررہ 14 روزہ نوٹس، کال ریکارڈ، Visit Reports اور دیگر تقاضوں پر عمل درآمد کا ریکارڈ رکھتا ہے تو یہی دستاویزات شہریوں کی شکایات کے بارے میں صورتحال واضح کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب اگر کسی اہلکار کی جانب سے ضابطوں سے تجاوز ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ ادارے کے داخلی احتساب اور ریگولیٹری کارروائی کا راستہ بھی موجود ہے۔

شہریوں نے ASA کے Complaint Management System اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ شنکیاری میں ریکوری کے طریقۂ کار سے متعلق شکایات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے اور اگر کسی اہلکار کی جانب سے ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ڈسکلیمر: یہ رپورٹ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات، دستیاب دستاویزات اور ASA مائیکروفنانس بینک کے متعلقہ ذمہ دار کا مؤقف سامنے رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ الزامات کو حتمی حقیقت یا ثابت شدہ جرم کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ متعلقہ فریق کا مؤقف بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ الزامات کی حتمی تصدیق مجاز ادارے کی شفاف تحقیقات اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ سے ہی ممکن ہے۔ سچ پاکستان کسی فرد یا ادارے کو قبل از تحقیق قصوروار قرار دینے کے بجائے عوامی شکایات اور مفادِ عامہ کے معاملات کو متعلقہ فریق کا مؤقف شامل کرتے ہوئے اجاگر کرنے کا پابند ہے۔



ASA MICROFINANCE
Deputy Commissioner Mansehra
State Bank of Pakistan

Image: AI-generated for illustrative purposes.

"تین دن کی تلاش، چند قدم کا فاصلہ"پہاڑ خوبصورت مگر خطرناک ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج کے خلاف اٹھایا جانے والا ایک قدم بھی انسا...
17/09/2026

"تین دن کی تلاش، چند قدم کا فاصلہ"

پہاڑ خوبصورت مگر خطرناک ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج کے خلاف اٹھایا جانے والا ایک قدم بھی انسان کو موت کی دہلیز تک لے جا سکتا ہے۔ موسٰی مصلٰے سے واپسی کے دوران غیر ملکی سیاح الیگزینڈر ہیرس کی گمشدگی اور بعد ازاں اس کی لاش کی برآمدگی اس حقیقت کی ایک افسوسناک مثال ہے، جسے مقامی، قومی اور عالمی میڈیا کے ذریعے دنیا دیکھ رہی ہے۔

یہ صرف ایک غیر ملکی سیاح کی موت کی کہانی نہیں بلکہ یہ واقعہ ہمارے سیاحتی، انتظامی اور ریسکیو نظام کی تیاری، استعداد اور ترجیحات پر کئی سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔

اس پر بات کرنا اہم کیوں ہے؟ اس واقعے نے ہمارے انتظامی ڈھانچے کی کون سی کمزوریاں بے نقاب کیں؟ سرچ آپریشن تین دن تک جاری رہنے کے باوجود لاش کیوں نہ مل سکی؟ اور بالآخر اسے تلاش کرنے والے کون تھے؟

یہ کالم اسی روداد کو آپ کے سامنے رکھنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ مکمل پڑھنے کے بعد امید ہے کہ رائے جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق اور انصاف کی بنیاد پر قائم کی جائے گی۔

مقامی ذرائع کے مطابق 28 اگست 2026 کو دو غیر ملکی سیاح، الیگزینڈر ہیرس اور ہیلن، منڈہ گچھہ پہنچے۔ رات مقامی ہوٹل میں قیام کے بعد اگلی صبح دونوں موسٰی مصلٰے کی جانب روانہ ہوئے۔

زیرو پوائنٹ جچھہ سے موسٰی مصلٰے ٹاپ تک تقریباً چھ گھنٹے کی پیدل مسافت بتائی جاتی ہے، تاہم دونوں نوجوان ٹریک رنرز نے یہ فاصلہ نسبتاً کم وقت میں طے کیا۔ تقریباً 13,500 فٹ بلند چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا۔

یہیں سے کہانی کا خطرناک موڑ شروع ہوتا ہے۔

مقامی معلومات کے مطابق اکھوڑی میدان کے قریب واپسی کے دوران دونوں ایک دوسرے سے آگے نکل گئے۔ ہیلن نسبتاً سیدھے راستے سے زیرو پوائنٹ واپس پہنچنے میں کامیاب رہا، جبکہ الیگزینڈر راستہ بھٹک کر ایک انتہائی دشوار اور خطرناک پہاڑی ڈھلوان، جسے مقامی طور پر ’’پراچہ کا لاڑ‘‘ کہا جاتا ہے، کی طرف چلا گیا۔

مبینہ طور پر راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں وہ پہاڑی ڈھلوان سے گر گیا اور جانبر نہ ہو سکا۔

ہیلن کی اطلاع پر پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے الیگزینڈر کی تلاش شروع کی۔ رات بھر سرچ آپریشن جاری رہا، مگر کوئی سراغ نہ نہیں ملا۔

بعد ازاں تقریباً 200 مزید اہلکار، ریسکیو 1122 کے اہلکار، محکمہ جنگلات کے ملازمین اور مقامی رضاکار سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں شامل ہوئے۔

تین دن تک مختلف ٹیمیں پہاڑ کے مختلف حصوں میں تلاش کرتی رہیں۔ مقامی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے بھی اس معاملے کو اجاگر کیا اور پولیس و انتظامیہ کی سرگرمیوں کو کوریج دی، لیکن پھر بھی لاپتہ سیاح کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر اتنی بڑی نفری، ریسکیو اہلکار، پولیس، محکمہ جنگلات اور مقامی رضاکار تین دن تک تلاش میں مصروف رہے تو وہ علاقہ کیوں تلاش نہ ہو سکا جہاں بالآخر لاش پڑی تھی؟

یکم ستمبر کو ڈی آئی جی ہزارہ کی جانب سے آئرش سیاح کو تلاش کرنے والے شخص کے لیے نقد انعام اور سرکاری ملازمت کا اعلان کیا گیا۔

اگلی صبح ریسکیو اہلکاروں، پولیس جوانوں اور مقامی افراد نے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دے کر دوبارہ پورے علاقے میں تلاش شروع کی۔

یہی وہ مرحلہ تھا جہاں اس پوری کہانی نے ایک حیران کن رخ اختیار کیا۔

محکمہ جنگلات کے فارسٹ گارڈ صفدر شاہ کے ہمراہ تین مقامی نوجوان، ناظم، منیر اور علی اکبر شاہ، پراچہ لاڑ سے ملحقہ ایک ڈھلوانی علاقے میں پہنچے۔

وہاں انہیں پانی کی ایک سفری بوتل دکھائی دی۔

بوتل دیکھ کر انہیں شبہ ہوا کہ یہ گمشدہ سیاح کی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بوتل کی سمت میں مزید تلاش شروع کی تو چند قدم آگے پہاڑی ڈھلوان پر الیگزینڈر کی لاش موجود تھی۔

یعنی جس شخص کو تین دن تک بڑے سرچ آپریشن کے باوجود تلاش نہیں کیا جا سکا، اسے بالآخر ایک مقامی فارسٹ گارڈ اور تین مقامی نوجوانوں نے تلاش کر لیا۔ لاش برآمد کی گئی، ضروری قانونی کارروائی مکمل ہوئی اور بعد ازاں لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

لاش ملنے کے بعد سب سے اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کریڈٹ کس کو ملے گا۔

اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ لاش تین دن تک کیوں نہیں مل سکی؟

کسی بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں صرف افراد کی تعداد کافی نہیں ہوتی۔ پہاڑی علاقوں میں کامیاب تلاش کے لیے جغرافیائی معلومات، ٹریل میپنگ، مقامی جغرافیہ سے واقفیت، خطرناک مقامات کی نشاندہی، سرچ گرڈ، GPS، مواصلاتی نظام اور تربیت یافتہ ٹیموں کا مربوط استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

یہاں چند سوالات انتظامیہ، پولیس، ریسکیو اور متعلقہ اداروں سے پوچھنا ضروری ہیں۔

اگر موسٰی مصلٰے اور اس سے ملحقہ سیاحتی علاقوں کا تفصیلی نقشہ موجود ہے تو کیا اس نقشے میں پہاڑی راستوں، خطرناک ڈھلوانوں، کھائیوں، ممکنہ حادثاتی مقامات اور متبادل راستوں کی نشاندہی موجود ہے؟

اگر ایسا نقشہ موجود ہے تو سرچ آپریشن کے دوران اسے بنیاد بنا کر تلاش کا منظم دائرہ کیوں تشکیل نہیں دیا گیا؟

اور اگر ایسا نقشہ موجود ہی نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم ایسے علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینے کے دعوے کیسے کر سکتے ہیں جہاں کسی ہنگامی صورتحال میں ریاستی اداروں کے پاس بنیادی جغرافیائی معلومات تک مکمل رسائی نہ ہو۔

پہاڑوں میں مقامی آدمی کا تجربہ کسی نقشے سے کم اہم نہیں ہوتا۔ مقامی گائیڈز برسوں سے ان پہاڑوں کے راستوں، خطرناک ڈھلوانوں، موسم کے اثرات اور ان مقامات سے واقف ہوتے ہیں جہاں عام آدمی کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

اگر مقامی گائیڈ نے ابتدائی مرحلے ہی میں کسی مخصوص علاقے کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا تھا تو سوال بنتا ہے کہ سرچ آپریشن کے پہلے تین دنوں میں پراچہ لاڑ کی حدود کو مکمل طور پر کیوں نہیں کھنگالا گیا؟

یہ سوال کسی ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے لیے سبق حاصل کرنے کے لیے ہے۔

لاش ملنے کے بعد ایک اور منظر نے انتظامی تیاری پر سوال کھڑا کیا۔

اتنے دشوار گزار پہاڑی علاقے سے لاش منتقل کرنے کے لیے باقاعدہ سٹریچر کی عدم دستیابی کی شکایت سامنے آئی۔ بالآخر لکڑیوں کی مدد سے لاش کو باندھ کر انتہائی مشکل ڈھلوان سے نکالا گیا۔

یہ منظر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر کسی پہاڑی علاقے میں باقاعدہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران بنیادی ریسکیو سامان ہی دستیاب نہ ہو تو ہنگامی حالات میں ہم کتنے تیار ہیں؟

پہاڑی سیاحت صرف خوبصورت مناظر، سوشل میڈیا پر تشہیر اور سیاحوں کی آمد کا نام نہیں۔

اس کے ساتھ Mountain Rescue Infrastructure بھی ضروری ہے۔

اور اب آتے ہیں اس سوال کی طرف جو شاید سب سے زیادہ تلخ ہے۔

لاش ملنے کے بعد مختلف اداروں کی جانب سے آپریشن کی کامیابی کا کریڈٹ لینے کی کوششیں فطری طور پر ایک بحث کو جنم دیتی ہیں۔

ریاستی اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن میں حصہ لینا ان کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنا یقیناً قابلِ قدر ہے۔

پولیس، ریسکیو 1122، محکمہ جنگلات اور دیگر اہلکاروں نے جس مشکل ماحول میں کام کیا، اس کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔

لیکن کریڈٹ کی دوڑ میں اصل کردار کو نظر انداز کرنا بھی انصاف نہیں۔

اگر حقیقتاً الیگزینڈر کی لاش اس مقام پر فارسٹ گارڈ صفدر شاہ اور مقامی نوجوانوں ناظم، منیر اور علی اکبر شاہ نے تلاش کی، تو ان کے کردار کو محض ’’مقامی مدد‘‘ کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

کیونکہ پہاڑ پر آخری چند قدم اکثر سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

اس واقعے کو صرف پولیس، ریسکیو یا ضلعی انتظامیہ کی ناکامی قرار دینا شاید مکمل تصویر نہ ہو۔

اصل مسئلہ اس سے بڑا ہے۔

ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کے سیاحتی پہاڑی علاقوں میں Search and Rescue Protocol کیا ہے؟ کیا ہر اہم ٹریک کا ڈیجیٹل نقشہ موجود ہے؟ کیا خطرناک مقامات کی باقاعدہ مارکنگ کی گئی ہے؟ کیا مقامی گائیڈز کو باقاعدہ ریسکیو نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا ہے؟ کیا ریسکیو ٹیموں کے پاس پہاڑی علاقوں کے لیے خصوصی تربیت اور سامان موجود ہے؟ کیا غیر ملکی سیاحوں کے لیے لازمی رجسٹریشن، روٹ پلان اور ایمرجنسی رابطہ نظام موجود ہے؟

اور سب سے اہم:

کیا کسی سیاح کے لاپتہ ہونے کے پہلے چند گھنٹے ضائع ہونے سے روکنے کے لیے واضح SOP موجود ہے؟

کیونکہ پہاڑ پر وقت صرف گھڑی کی سوئیاں نہیں گھماتا، بلکہ ہر گزرتا گھنٹہ تلاش کی مشکل بڑھاتا جاتا ہے۔

الیگزینڈر ہیرس اب واپس نہیں آ سکتا۔

اس کی موت کو نہ کوئی انعام بدل سکتا ہے، نہ کوئی پریس ریلیز اور نہ ہی کریڈٹ کی کوئی جنگ۔ لیکن اس سانحے سے سیکھا ضرور جا سکتا ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم پہاڑوں کو صرف سیاحتی مقام سمجھتے ہیں یا ایک ایسے حساس جغرافیائی خطے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں جہاں معمولی غلطی جان لے سکتی ہے۔

اگر ہم واقعی پاکستان کو محفوظ سیاحتی ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں خوبصورت تصاویر اور تشہیری مہمات سے آگے بڑھنا ہوگا۔

ہمیں ہر اہم ٹریل کا نقشہ بنانا ہوگا۔

خطرناک مقامات کی نشاندہی کرنا ہوگی۔

مقامی گائیڈز کو تربیت دے کر باقاعدہ ریسکیو نیٹ ورک کا حصہ بنانا ہوگا۔

پہاڑی ریسکیو کے لیے خصوصی آلات فراہم کرنا ہوں گے۔

اور سب سے بڑھ کر، مقامی لوگوں کے تجربے کو ریاستی نظام کا باقاعدہ حصہ بنانا ہوگا۔

کیونکہ اس واقعے نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی ہے:

پہاڑ کو جاننے والا مقامی آدمی بعض اوقات وہ دیکھ لیتا ہے جو بڑے سے بڑا سرچ آپریشن بھی نہیں دیکھ پاتا۔

الیگزینڈر ہیرس کی موت شاید ایک حادثہ تھی، لیکن اس کی گمشدگی سے لاش کی برآمدگی تک کا سفر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے کہ آئندہ کسی اور سیاح کے لیے ہمیں کتنی تیاری درکار ہے۔

اور شاید یہی اس سانحے کا سب سے بڑا سبق ہے۔

کریڈٹ کی جنگ بعد میں بھی لڑی جا سکتی ہے، مگر کسی انسان کی زندگی واپس نہیں آتی۔

پشاور میں اسلحے کی بڑی کھیپ برآمد، مشتبہ شخص گرفتارپشاور کوہاٹ روڈ پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ گاڑی سے بھار...
13/09/2026

پشاور میں اسلحے کی بڑی کھیپ برآمد، مشتبہ شخص گرفتار

پشاور کوہاٹ روڈ پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور کارتوس برآمد کر لیے۔

پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے اسلحے میں 77 کلاشنکوفیں، 63 رائفلیں، 21 پستول، 80 میگزین اور تقریباً 50 ہزار کارتوس شامل ہیں، جبکہ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ شخص کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اسلحے کی ترسیل کے مقاصد، ممکنہ سمگلر نیٹ ورک اور سہولت کاروں سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

حکام کے مطابق گرفتار شخص سے مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔

ڈسکلیمر: یہ خبر پولیس کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات پر مبنی ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے



Photo Credit & Note: Image sourced from Eagle Claw (page) and used for illustrative purposes to help explain the news story.

🎉 Facebook recognized me as a consistent post creator this week!
10/09/2026

🎉 Facebook recognized me as a consistent post creator this week!

10/09/2026

اسلام و علیکم
الحمد و اللہ ایڈمن کی طبیعت کافی حد تک بہتر ہے جلد سچ پاکستان کی نشریات کا سلسلا جاری ہو جائے گا۔

07/09/2026

طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے سچ پاکستان کی تمام ایکٹیویٹیز معطل ہیں۔

زیارت حملہ: 16ایف سی اہلکاروں کی شہادت، BLA کا دعویٰ اور بلوچستان میں عسکریت پسندی کے بنیادی سوالاتبلوچستان کے ضلع پشین ...
04/09/2026

زیارت حملہ: 16ایف سی اہلکاروں کی شہادت، BLA کا دعویٰ اور بلوچستان میں عسکریت پسندی کے بنیادی سوالات

بلوچستان کے ضلع پشین میں زیارت کراس کے قریب فرنٹیئر کور کے قافلے پر ہونے والے حملے نے ایک بار پھر بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی اور ریاستی سکیورٹی حکمتِ عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دستیاب مقامی رپورٹس کے مطابق 3 ستمبر کو زیارت کراس کے قریب ایف سی کے 134 ونگ کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 16 اہلکاروں کی شہادت کی اطلاع ہے۔ بعض ابتدائی اطلاعات میں تعداد مختلف بتائی گئی، جبکہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے اپنی جانب سے 18 اہلکاروں کی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان دعوؤں میں مکمل فرق کی وجہ سے حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری تصدیق کو بنیادی حوالہ سمجھا جائے گا۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی متعدد عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 48 عسکریت پسند مارے گئے۔

لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ایسے منظم حملے بار بار کیسے ممکن ہو رہے ہیں؟

۔BLA ایک مسلح علیحدگی پسند تنظیم ہے جسے امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق تنظیم سکیورٹی فورسز، چینی مفادات اور دیگر ریاستی اہداف کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ 2025 میں امریکہ نے BLA، Majeed Brigade اور اس سے منسلک ناموں کو Foreign Terrorist Organization کے طور پر بھی نامزد کیا۔

تنظیم کی طاقت کا ایک اہم پہلو اس کا decentralized militant network ہے، جس میں مقامی معاونین، خفیہ رابطہ کاری، مالی وسائل، اسلحہ، نقل و حرکت اور معلومات کا مختلف سطحوں پر استعمال شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے نیٹ ورکس کو ختم کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ ایک فرد کی گرفتاری لازماً پورے نیٹ ورک تک رسائی کی ضمانت نہیں بنتی۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر کوئی عسکریت پسند زندہ گرفتار ہو جائے تو اس سے حاصل ہونے والی معلومات کو انٹیلی جنس، پولیس، CTD، مالیاتی نگرانی اور دیگر اداروں کے درمیان کس حد تک مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟

کیا گرفتار افراد سے حاصل ہونے والی معلومات صرف ایک مقدمے تک محدود رہ جاتی ہیں یا ان سے پورے نیٹ ورک، سہولت کاروں، مالی معاونت اور اسلحے کی سپلائی چین تک پہنچنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے؟

ایک دوسرا اہم سوال مالی وسائل کا ہے۔

پاکستانی حکام متعدد مواقع پر BLA کو بیرونی حمایت اور خصوصاً بھارت سے جوڑتے رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی مخصوص حملے کے لیے بیرونی فنڈنگ یا کسی مخصوص ریاستی ادارے کے براہِ راست ملوث ہونے کا دعویٰ شواہد کے بغیر قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی سرکاری پوزیشن اور آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق شواہد کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع، کم آبادی والے اور دشوار گزار خطے میں عسکریت پسند اپنی نقل و حرکت، رابطہ کاری اور مقامی معاونت کیسے برقرار رکھتے ہیں۔ موبائل فون یا ریڈیو مواصلات کے علاوہ بھی انسانی رابطے، واسطہ داروں، محفوظ مقامات اور کم ٹیکنالوجی والے طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں؛ اس لیے ہر حملے کی ناکامی یا کامیابی کو صرف موبائل ڈیٹا حاصل کرنے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

اصل مسئلہ شاید صرف انٹیلی جنس کی کمی نہیں بلکہ intelligence-to-action gap بھی ہو سکتا ہے: یعنی معلومات حاصل ہونے کے بعد مختلف اداروں کے درمیان اسے بروقت، مربوط اور قابلِ عمل انداز میں استعمال کرنے کا عمل۔

سولہ اہلکاروں کی شہادت صرف ایک خبر نہیں۔ اس کے پیچھے سولہ خاندانوں کا غم، سولہ گھروں کا نقصان اور ریاست کے لیے ایک بڑا سکیورٹی سوال موجود ہے۔

اس لیے زیارت حملے کے بعد بحث صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ کتنے عسکریت پسند مارے گئے؟

بحث یہ بھی ہونی چاہیے کہ:

حملے کی منصوبہ بندی کہاں ہوئی؟
مقامی سطح پر سہولت کاری کس نے کی؟
مالی وسائل کہاں سے آئے؟
اسلحہ اور دھماکا خیز مواد کی سپلائی چین کیا تھی؟
گرفتار عسکریت پسندوں سے حاصل ہونے والی معلومات کہاں تک پہنچیں؟

اور سب سے اہم سوال؛ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور مکمل نیٹ ورک تک ریاست کب پہنچے گی؟

یہ سوالات کسی ادارے کو الزام دینے کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہیں جو برسوں سے بلوچستان میں انسانی جانوں اور ریاستی وسائل دونوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنے کی حکمتِ عملی کیا ہے؟

۔____________________
ڈسکلیمر ؛

یہ رپورٹ دستیاب سرکاری بیانات اور مختلف ذرائع کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ زیارت حملے میں 16 اہلکاروں کی شہادت کی اطلاع متعدد ذرائع سے سامنے آئی ہے، تاہم BLA کے دعوے اور حتمی سرکاری اعداد میں فرق موجود ہے۔ بیرونی ریاستوں یا مخصوص افراد کی مالی/عملی معاونت سے متعلق دعوے کو آزادانہ قابلِ تصدیق شواہد کے بغیر حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔



AI Image Credit / Disclosure:
Illustrative image generated using AI for editorial visualization. It is not an actual photograph of the Ziarat attack.

04/09/2026

مقامی لوگ غیر ملکی ٹریکر الیگزینڈر کی ڈیڈ باڈی کو دشوار گزار راستے سے کندھوں پر اٹھا کر جچھہ منتقل کرتے ہوئے۔

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Such Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Such Pakistan:

Shortcuts

Share