Truth tax & corporate consultant studio

Truth tax & corporate consultant studio Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Truth tax & corporate consultant studio, Lahore.

Become a filer at home and save taxes with one phone call
Company Registration Marka Registered Trademark FBR Business Register Punjab Revenue Authority PRA Sales Tax Monthly Return To get best services just contact Truth Tax corporate consultant studio

15/08/2026

USD dollar buy and selling now available

کھیوٹ ھائے کا اشتراک۔۔۔۔  پنجاب میں بکھری ہوئی زرعی اراضی کو یکجا کرنے کا نیا طریقہ کار7 اگست 2026ء کو حکومتِ پنجاب نے ا...
08/08/2026

کھیوٹ ھائے کا اشتراک۔۔۔۔
پنجاب میں بکھری ہوئی زرعی اراضی کو یکجا کرنے کا نیا طریقہ کار

7 اگست 2026ء کو حکومتِ پنجاب نے اراضی کی تقسیم کے عمل کو مزید آسان، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کی دفعہ 147-A کے تحت وراثتی یا مشترکہ اراضی کی تقسیم سے قبل چھوٹی چھوٹی اور بکھری ہوئی ہولڈنگز کو پہلے یکجا کیا جا سکے گا، تاکہ بعد ازاں تقسیم کا عمل زیادہ سہل اور قابلِ عمل ہو۔

اس طریقہ کار کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک ہی مالک کی مختلف جگہوں پر موجود چھوٹی چھوٹی اراضی کو ممکنہ حد تک ایک جگہ یکجا کیا جائے۔ اس سے زمین کے غیر ضروری بکھراؤ میں کمی آئے گی، کاشت کاری آسان ہوگی اور ریونیو ریکارڈ کی دیکھ بھال بھی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔

درخواست اور منظوری کا طریقہ

اس مقصد کے لیے سب ڈویژن کے کلکٹر کو درخواست دی جائے گی۔ درخواست موصول ہونے کے بعد سرکل ریونیو آفیسر متعلقہ مالکان میں سے کم از کم 25 فیصد مالکان کی رضامندی حاصل کرے گا۔

اس کے بعد منظوری کا عمل مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا:

- 15 دن میں سرکل ریونیو آفیسر کی کارروائی
- اس کے بعد 7 دن میں سب ڈویژن کلکٹر کی منظوری
- مزید 7 دن میں ضلع کلکٹر کی منظوری

منظوری مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ریونیو آفیسر فوری طور پر یکجا شدہ ہولڈنگ کی تقسیم کا عمل شروع کرے گا۔

کسانوں اور ریونیو نظام کے لیے اہم قدم

یہ اقدام خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جہاں نسل در نسل وراثتی تقسیم کے باعث زرعی زمین چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے۔ ایسی بکھری ہوئی زمین نہ صرف کاشت کاری میں مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ راستوں، حدود، قبضے اور ریونیو ریکارڈ سے متعلق مسائل میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

نئے طریقہ کار سے امید ہے کہ زمین کی تقسیم زیادہ منظم انداز میں ہوگی، چھوٹی اور بکھری ہوئی ہولڈنگز کو یکجا کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور ریونیو افسران کے لیے ریکارڈ کی درستگی اور زمین سے متعلق معاملات کو نمٹانا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔

مختصراً، یہ اقدام صرف زمین کو یکجا کرنے کا عمل نہیں بلکہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں اراضی کے بہتر انتظام، آسان کاشت کاری اور زیادہ مؤثر ریونیو نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Truth tax & corporate consultant studio #03057389007

18/07/2026
ابھی فائلر ہونے کے لیے گورنمنٹ فیس ایکٹو فائلر ہونے کے لیے آج ہی رابطہ کریں مناسب فیس اور تسلی والا کام
18/07/2026

ابھی فائلر ہونے کے لیے گورنمنٹ فیس ایکٹو فائلر ہونے کے لیے آج ہی رابطہ کریں مناسب فیس اور تسلی والا کام

Tax filing Made easy   Free FBR compliance Truth tax & corporate consultant studio
18/07/2026

Tax filing Made easy Free FBR compliance Truth tax & corporate consultant studio

24/06/2026

#یکم جولائی سے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں فرد بیع ایشو کرنے پہ پابندی اب زمین کے تمام کام گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پر ہوں گے
بورڈ آف ریونیو پنجاب سے نوٹیفکیشن جاری

یکم جولائی سے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں فرد بیع ایشو کرنے پہ پابندی اب زمین کے تمام کام گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پر ہوں ...
24/06/2026

یکم جولائی سے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں فرد بیع ایشو کرنے پہ پابندی اب زمین کے تمام کام گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پر ہوں گے
بورڈ آف ریونیو پنجاب سے نوٹیفکیشن جاری

14/06/2026

*بجٹ 2026-27 — اہم خصوصیات*

حصہ اول: سیلز ٹیکس ایکٹ 1990

✅ 1. ریلیف اقدامات (یعنی جن سے ٹیکس گزار کو فائدہ ہوگا)

i. رسالوں (Magazines) پر سیلز ٹیکس ختم

پہلے رسالے اور میگزین خریدنے پر سیلز ٹیکس لگتا تھا۔ اب یہ ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ یعنی رسالے سستے ہوں گے۔

ii. الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات (CKD) پر ٹیکس چھوٹ میں توسیع

جو کمپنیاں باہر سے الیکٹرک گاڑیوں کے پرزے منگوا کر یہاں گاڑیاں بناتی ہیں، انہیں جو ٹیکس چھوٹ مل رہی تھی، وہ 30 جون 2027 تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس سے الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں قابو میں رہیں گی۔

iii. پی آئی اے کے لیے ہوائی جہاز کے پرزوں پر ٹیکس چھوٹ میں اضافہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) جو ہوائی جہازوں کے پرزے درآمد کرتی ہے یا لیز پر لیتی ہے، ان پر ٹیکس چھوٹ کا دائرہ بڑھایا گیا ہے۔

iv. فیملی پلاننگ آلات پر ٹیکس چھوٹ ختم

خاندانی منصوبہ بندی کے آلات پر جو ٹیکس چھوٹ تھی، وہ واپس لے لی گئی ہے۔ یعنی یہ چیزیں اب قدرے مہنگی ہو سکتی ہیں۔

v. “ٹیمپون ٹیکس” ختم (Abolition of Tampon Tax)

خواتین کی صحت سے متعلق مخصوص اشیاء (سینیٹری پراڈکٹس) پر جو سیلز ٹیکس تھا، وہ ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ خواتین کے لیے ایک اہم ریلیف ہے۔

vi. شپنگ (بحری تجارت) میں سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ

جو لوگ یا کمپنیاں پاکستان میں بحری جہاز رانی کے کاروبار میں بڑی سرمایہ کاری کریں گی، انہیں سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی تاکہ یہ شعبہ ترقی کرے۔

vii. SCO سربراہی اجلاس اور انسداد دہشت گردی کی درآمدات پر ٹیکس چھوٹ

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے لیے جو سامان درآمد کیا جائے گا، اس پر کوئی سیلز ٹیکس نہیں ہوگا۔

viii. پرانی تیل صاف کرنے والی فیکٹریوں (Refineries) کی اپ گریڈیشن پر ٹیکس چھوٹ

جو کمپنیاں اپنی پرانی آئل ریفائنریوں کو جدید بنانے کے لیے مشینری اور سازوسامان درآمد کریں گی، انہیں سیلز ٹیکس سے چھوٹ ملے گی۔

ix. چھٹے شیڈول میں نئی اشیاء شامل

سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول میں نئی مزید اشیاء شامل کی گئی ہیں جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔

x. الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیکس کی مدت میں توسیع

الیکٹرک گاڑیوں پر جو خصوصی کم ٹیکس شرح لاگو تھی، اسے 30 جون 2027 تک جاری رکھا جائے گا۔

💰 2. ریونیو اقدامات (یعنی حکومت نے جہاں سے زیادہ ٹیکس لینے کا فیصلہ کیا)

i. تھرڈ شیڈول میں اضافہ — صارف قیمت پر ٹیکس

پہلے کچھ مصنوعات پر ٹیکس فیکٹری قیمت پر لگتا تھا۔ اب مزید مصنوعات پر ٹیکس وہ قیمت پر لگے گا جس پر وہ دکان میں بکتی ہیں (یعنی مارکیٹ ریٹ)۔ اس سے حکومت کو زیادہ ٹیکس ملے گا۔

ii. ان رجسٹرڈ خریداروں سے ٹول مینوفیکچررز کا وِدھولڈنگ ٹیکس

جو فیکٹریاں کسی کا مال بنا کر دیتی ہیں (ٹول مینوفیکچرنگ)، اگر خریدار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ہے تو فیکٹری خود اس سے سیلز ٹیکس کاٹ کر حکومت کو دے گی۔

iii. AOPs اور افراد کی جانب سے ان رجسٹرڈ افراد سے ودہولڈنگ ٹیکس

کاروباری اداروں (شراکتی فرموں اور انفرادی کاروبار) کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی غیر رجسٹرڈ فروخت کنندہ سے خریداری کریں تو سیلز ٹیکس کاٹ کر جمع کروائیں۔

iv. درآمد شدہ خام مال کو اسی حالت میں بیچنے پر 3% اضافی VAT

اگر کوئی مینوفیکچرر باہر سے خام مال منگوا کر بغیر کوئی پروسیسنگ کیے اسے ویسے ہی آگے بیچ دے، تو اس پر 3 فیصد اضافی ٹیکس لگے گا۔ مقصد یہ ہے کہ صنعتی پروسیسنگ کی جائے، محض درآمد اور فروخت کا کاروبار نہ ہو۔

v. جرمانوں میں ترمیم اور نئے جرائم شامل

کچھ قانونی خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی رقم کو درست کیا گیا ہے اور تین نئی خلاف ورزیوں کو بھی جرمانے کے قابل قرار دیا گیا ہے۔

🔧 3. انتظامی بہتری کے اقدامات (ٹیکس نظام کو بہتر بنانا)

i. نئی تعریفیں شامل کی گئیں
قانون میں چند نئی اصطلاحات باقاعدہ تعریف کے ساتھ شامل کی گئی ہیں، جیسے: ایڈوانس رسید انوائس، الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم، الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم، نیشنل فیس لیس سینٹر، اور پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم۔

ii. ٹائر-1 ریٹیلر کی تعریف میں ترمیم
جس دکاندار یا ریٹیلر کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہو، اسے اب ٹائر-1 ریٹیلر سمجھا جائے گا۔ اس کیٹیگری میں آنے سے ٹیکس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

iii. مال کی ترسیل کے وقت کی وضاحت
قانون میں یہ بات صاف کر دی گئی ہے کہ سامان کی “فراہمی” کا وقت کیا شمار ہوگا، تاکہ ٹیکس لاگو کرنے کا مناسب وقت طے ہو سکے۔

iv. بورڈ کو گڈز ویلیو ایشن آؤٹ سورس کرنے کا اختیار
FBR کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ درآمد شدہ اشیاء کی قیمت کا تعین (valuation) بیرونی ماہرین سے بھی کروا سکتا ہے۔

v. اسٹیل سیکٹر پر بجلی استعمال کی بنیاد پر ٹیکس
اسٹیل بنانے والی فیکٹریوں سے ٹیکس اب ان کے ماہانہ بجلی کے یونٹ استعمال کی بنیاد پر بھی وصول کیا جا سکے گا۔ یعنی جتنی بجلی استعمال، اتنا زیادہ پروڈکشن، اتنا زیادہ ٹیکس۔

vi. انپٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی حد گھٹانے بڑھانے کا اختیار
FBR کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق انپٹ ٹیکس (یعنی خریداری پر ادا کیا گیا ٹیکس جو واپس ملتا ہے) کی حد کم یا زیادہ کر سکے۔

vii. ڈیبٹ اور کریڈٹ نوٹس الیکٹرانک طریقے سے
اب ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے لیے ڈیبٹ اور کریڈٹ نوٹ صرف الیکٹرانک طریقے سے جاری ہوں گے۔

viii. نئی دفعہ 11H — فیس لیس آڈٹ اور اسسمنٹ
ایک نیا نظام متعارف کروایا گیا ہے جس میں ٹیکس آفیسر اور ٹیکس دہندہ آمنے سامنے بیٹھے بغیر آڈٹ مکمل ہوگا۔ سب کام آن لائن اور کمپیوٹر کے ذریعے ہوگا۔

ix. جعلی انوائسز کو روکنے کے لیے دفعہ 21 میں ترمیم
وہ رجسٹریشن منسوخ کرنے کے اختیار کو مضبوط کیا گیا ہے جو جعلی بل (flying invoices) بناتے ہیں۔

x. استثنیٰ یافتہ سپلائیز پر بھی انوائس لازمی
اگر آپ کوئی ایسی چیز بیچ رہے ہیں جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، تو بھی آپ کو انوائس جاری کرنی ہوگی۔

xi. چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے آڈٹ کا اختیار
ٹیکس محکمہ کسی کاروباری کا آڈٹ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا کوسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ سے بھی کروا سکتا ہے۔

xii تا xxi. فیس لیس نظام، الگورتھمک میکانزم اور نئے ادارے
ٹیکس نظام کو مکمل طور پر آن لائن اور خودکار بنانے کے لیے کئی نئے ادارے اور دفعات شامل کی گئی ہیں، جن میں شامل ہیں:

• نیشنل فیس لیس سینٹر (آن لائن ٹیکس آفس)
• الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم (کمپیوٹر سے خودکار تصفیہ)
• انڈیپینڈنٹ کیس سکروٹنی کمیٹی (مقدمات کی آزادانہ جانچ)
• ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا نظام
• فیس لیس اپیل کا طریقہ کار

حصہ دوم: انکم ٹیکس آرڈیننس 2001

✅ 1. ریلیف اقدامات (تنخواہ دار اور کاروباری افراد کے لیے خوشخبری)

i. تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کم

تنخواہ دار ملازمین کے لیے انکم ٹیکس کی شرحیں کم کی گئی ہیں۔ نئے ٹیکس سلیب بنائے گئے ہیں اور سب سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس کی حد 41 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ یعنی 70 لاکھ سالانہ تنخواہ تک آپ کا ٹیکس پہلے سے کم ہوگا۔

ii. پلاٹوں اور مکانوں پر “فرضی آمدن ٹیکس” (دفعہ 7E) ختم

پہلے اگر آپ کے پاس پلاٹ یا مکان تھا اور آپ نے اسے کرائے پر نہیں دیا، تب بھی حکومت فرض کر کے ٹیکس لگاتی تھی۔ یہ ظالمانہ دفعہ (Section 7E) اب ختم کر دی گئی ہے۔ یہ پراپرٹی مالکان کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔

iii. سپر ٹیکس میں کمی

جن افراد یا کمپنیوں کی آمدن 50 کروڑ روپے تک ہے، ان پر سپر ٹیکس بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔ جن کی آمدن 50 کروڑ سے زیادہ ہے، ان کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

⚠️ نوٹ: بینک، کھاد (Fertilizer) اور تیل و گیس نکالنے والی کمپنیوں کو یہ رعایت نہیں ملے گی۔

iv. پراپرٹی خریدنے اور بیچنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کم

جائیداد بیچنے پر (دفعہ 236C) پہلے 4.5 سے 5.5 فیصد ٹیکس کٹتا تھا، اب صرف 2.75 فیصد۔
جائیداد خریدنے پر (دفعہ 236K) پہلے 1.5 سے 2.5 فیصد کٹتا تھا، اب صرف 1.5 فیصد۔
یہ رعایت پراپرٹی مارکیٹ کو تحریک دینے کے لیے دی گئی ہے۔

v. برآمد کنندگان (Exporters) کے لیے ٹیکس کم

جو تاجر پاکستان سے سامان باہر بھیجتے ہیں، ان پر ایکسپورٹ پر ودہولڈنگ ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

vi. IT اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ پر کم ٹیکس کی مدت میں توسیع

آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے خوشخبری — ان کے لیے صرف 0.25 فیصد کی خصوصی ٹیکس شرح کو 2026 سے بڑھا کر ٹیکس سال 2029 تک جاری رکھا جائے گا۔

vii. بیرون ملک کارڈ سے ادائیگی پر ٹیکس انتہائی کم

جب آپ پاکستانی ڈیبٹ، کریڈٹ یا پری پیڈ کارڈ سے باہر ملک میں خرچ کرتے ہیں تو پہلے 5 فیصد ٹیکس کٹتا تھا — اب یہ گھٹا کر صرف 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یعنی 10 گنا کمی!

viii. ای کامرس (آن لائن کاروبار) پر ٹیکس ایڈجسٹ ہوگا

جو لوگ آن لائن پلیٹ فارمز پر سامان بیچتے ہیں اور ان کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، ان پر کاٹا گیا ٹیکس آخر میں ایڈجسٹ ہوگا — یعنی فائنل ٹیکس نہیں ہوگا۔

ix. FBR سسٹم سے جڑنے پر 10 فیصد ٹیکس کریڈٹ

اگر آپ نے اپنا کاروباری نظام FBR کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے جوڑنے کے لیے سرمایہ لگایا، تو اس سرمایہ کاری کا 10 فیصد آپ کے ٹیکس سے منہا ہوگا۔

x. غیر ملکی ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات پر ٹیکس ختم

غیر ملکی ٹی وی پروگراموں اور اشتہارات کی ادائیگیوں پر جو ٹیکس لگتا تھا، وہ ختم کر دیا گیا ہے۔

xi. فلاحی و خیراتی اداروں کو ٹیکس چھوٹ

پاکستان ریڈ کریسنٹ، شاہین فاؤنڈیشن، بحریہ فاؤنڈیشن، SIUT اور دعوت اسلامی سمیت کئی اداروں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اب انہیں ہر سال کمشنر سے اجازت نہیں لینی پڑے گی۔

xii. اثاثہ جات پر قائم SPV کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ

اگر کوئی کمپنی Asset-Backed Securities (یعنی اثاثوں کے عوض سرمایہ اکٹھا کرنے) کے لیے بنائی گئی ہے، تو اس کی آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔

xiii. بیرون ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم

پاکستانی شہری جو بیرون ملک جائیداد یا قابل منتقلی اثاثے رکھتے ہیں، ان پر جو Capital Value Tax لگتا تھا، وہ ختم کر دیا گیا ہے۔

xiv. چھوٹے تاجروں کو ودہولڈنگ سے مستثنیٰ کرنے کی حد بڑھائی

جن چھوٹے تاجروں کا سالانہ کاروبار 10 کروڑ سے کم ہے، انہیں ودہولڈنگ ٹیکس سے پہلے چھوٹ ملتی تھی۔ اب یہ حد بڑھا کر 20 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

xv. این پی اوز اور فنڈز کو پورے سال کا استثنیٰ سرٹیفکیٹ

اہل غیر منافع بخش تنظیمیں اور فنڈز اب پورے مالی سال کے لیے خودکار طریقے سے ٹیکس استثنیٰ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گی — بار بار دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔

xvi. وراثتی اور خاندانی تصفیوں میں جائیداد کی لاگت کا تعین

قانون میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ جب کوئی جائیداد وراثت میں ملے یا خاندانی تصفیے (family settlement) میں منتقل ہو، تو اس کی اصل لاگت کیسے شمار ہوگی۔ اس سے مستقبل میں ٹیکس تنازعات کم ہوں گے۔

💰 2. ریونیو اقدامات (جہاں سے حکومت نے مزید ٹیکس لینے کا فیصلہ کیا)

i. جعلی لائف انشورنس پالیسیوں پر ٹیکس

بعض لوگ لائف انشورنس کو ٹیکس بچانے کے لیے غلط طریقے سے استعمال کر رہے تھے۔ ایسی “جعلی” پالیسیوں پر اب ٹیکس لگایا جائے گا۔

ii. یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک سے آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس

ڈیجیٹل کانٹینٹ کریٹرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو جو رقم یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک سے ملتی ہے — اب بینک اس رقم پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹے گا۔

iii. سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی

خدمات (services) فراہم کرنے والوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کا ڈھانچہ نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ آزاد پیشہ ور افراد (مثلاً ڈاکٹر، انجینئر، وکیل) کو الگ زمرے میں رکھا گیا ہے۔

iv. ڈسٹریبیوٹرز اور ہول سیلرز کا کم از کم ٹیکس بڑھا

مخصوص شعبوں کے ڈیلرز اور ہول سیلرز کا کم از کم ٹیکس 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے (شرط: مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا)۔

v. بینک اکاؤنٹس اور ٹیکس ریٹرن کا کمپیوٹری موازنہ

بینک اور الیکٹرانک منی ادارے ہائی ویلیو لین دین کی معلومات FBR کو دیں گے۔ کمپیوٹر یہ معلومات آپ کے ٹیکس ریٹرن سے ملائے گا۔ اگر کوئی بڑا فرق ملا تو نوٹس آئے گا۔

vi. کاروباری نظام کو FBR سے جوڑنا لازمی

FBR کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص کاروباروں کو پابند کرے کہ وہ اپنے سسٹم FBR سے جوڑیں اور لین دین کی ریئل ٹائم رپورٹنگ کریں۔ نہ کرنے پر اخراجات کی مد میں فائدہ نہیں ملے گا۔

vii. جرمانوں میں اضافہ

کئی خلاف ورزیوں پر جرمانے بڑھا دیے گئے ہیں — جیسے ریٹرن نہ جمع کرنا، سسٹم انٹیگریشن نہ کرنا، ATL میں دیر سے شامل ہونا، اور غلط ودہولڈنگ ٹیکس کلیم کرنا۔

viii. ATL سے باہر افراد کو لسٹڈ سیکیورٹیز پر استثنیٰ ختم

جو لوگ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں نہیں ہیں، انہیں شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری پر جو خصوصی چھوٹ ملتی تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے۔ مقصد: لوگ ریٹرن فائل کریں اور ATL میں آئیں۔

🔧 3. انتظامی بہتری کے اقدامات

i. نیشنل فیس لیس سینٹر

ایک نیا ادارہ قائم ہوگا جہاں آڈٹ، اسسمنٹ اور اپیل سب کچھ آن لائن ہوگا۔ آپ کو ٹیکس آفس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی — سب کام کمپیوٹر کے ذریعے۔

ii. الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم

اگر FBR کے سسٹم کو آپ کے اکاؤنٹ میں کوئی فرق نظر آئے، تو ایک خودکار نظام کے ذریعے آپ کو موقع دیا جائے گا کہ بغیر جرمانے اور سود کے وہ فرق ٹھیک کریں۔

iii. انڈیپینڈنٹ کیس سکروٹنی کمیٹی

ٹیکس مقدمات کا آزادانہ جائزہ لینے کا ایک نیا طریقہ کار متعارف کروایا گیا ہے تاکہ محکمہ کے مقدمات بہتر اور یکساں انداز میں چلائے جائیں۔

iv. متبادل تنازعہ حل (ADR) میں بہتری

ٹیکس تنازعات کو عدالت سے باہر حل کرنے کا نظام (ADR) مزید بہتر کیا گیا ہے تاکہ مقدمات جلدی نمٹیں۔

v. غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے لیے جامع قوانین

پاکستان سے گزرنے والی بیرونی بحری کمپنیوں کے ٹیکس اور کمپلائنس سے متعلق قوانین واضح اور مکمل کر دیے گئے ہیں۔

vi. شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری پر فائدے کا حساب — NCCPL کا کردار بڑھا

لسٹڈ شیئرز پر سرمائے کے فائدے (Capital Gains) کا حساب لگانے میں NCCPL کا کردار وضاحت کے ساتھ بڑھایا گیا ہے۔

vii. کمپنیوں کے لیے مالیاتی بیانات مشین ریڈ ایبل فارمیٹ میں لازمی

کمپنیوں کو اپنے مالیاتی بیانات (financial statements) اب الیکٹرانک اور مشین ریڈ ایبل فارمیٹ میں جمع کروانے ہوں گے تاکہ FBR کا سسٹم انہیں خودکار طریقے سے پروسیس کر سکے۔

viii. آزاد ماہرین سے خصوصی آڈٹ

کمشنر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر کسی کاروبار کا آڈٹ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، کوسٹ اکاؤنٹنٹ یا ایکچوری سے کروا سکے۔

ix. ماہرین کی خدمات اور انکشاف کا نظام

FBR کو اختیار ملا ہے کہ آڈٹ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین کی خدمات لے اور معلومات کے انکشاف کے طریقہ کار کو مضبوط کرے۔

x. ڈائریکٹوریٹ جنرل (فیلڈ کمپلائنس) کا قیام

ایک نیا محکمہ قائم کیا گیا ہے جو زمینی سطح پر ٹیکس کمپلائنس کو یقینی بنانے کا کام کرے گا۔

xi. چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے خصوصی طریقہ کار میں توسیع

دفعہ 99B کے تحت چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے آسان ٹیکس نظام کا دائرہ مزید بڑھایا گیا ہے۔

xii. تکنیکی اور انتظامی ترامیم

قانون کی کئی دفعات میں چھوٹی چھوٹی وضاحتی اور انتظامی ترامیم کی گئی ہیں تاکہ عملدرآمد میں آسانی ہو۔

نوٹ: یہ تمام تفصیلات بجٹ 2026-27 کے “سیلینٹ فیچرز” دستاویز پر مبنی ہیں۔ حتمی قانون کے لیے فنانس ایکٹ 2026 کا انتظار کریں۔ کسی بھی مخصوص معاملے کے لیے اپنے ٹیکس مشیر سے رہنمائی لیں۔

14/06/2026

your Advance Income Tax today and take pride in serving the nation

last date for paying the 4th quarterly instalment of Advance Income Tax is 15 June 2026

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Truth tax & corporate consultant studio posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Truth tax & corporate consultant studio:

Shortcuts

Share