19/05/2026
*نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2026: آسان ریٹرن کا دور ختم، مکمل مالی شفافیت کا آغاز*
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے لیے نیا مجوزہ الیکٹرانک انکم ٹیکس ریٹرن فارم جاری کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ ڈرافٹ فارم *SRO 835(I)/2026* کے تحت جاری کیا گیا ہے اور اسٹیک ہولڈرز، ٹیکس پریکٹیشنرز، بزنس کمیونٹی اور ٹیکس گزاروں سے سات دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔ یہ فارم ابھی حتمی نہیں بلکہ مجوزہ مرحلے میں ہے، مگر اس کے خدوخال یہ بتا رہے ہیں کہ ایف بی آر اب ریٹرن کو صرف آمدنی کے ایک سادہ بیان کے بجائے مکمل مالی سرگرمیوں کی سالانہ سمری بنانا چاہتا ہے۔
اس نئے فارم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس گزار کو اب اپنی معاشی سرگرمیوں کی تفصیل زیادہ منظم انداز میں دینی ہوگی۔ ایف بی آر کے ڈرافٹ انسٹرکشنز کے مطابق سسٹم میں موجود معاشی لین دین کا ڈیٹا اشارتی ہوگا اور وقت کے ساتھ اپڈیٹ ہوتا رہے گا، مگر درست آمدنی اور درست ٹیکس رپورٹ کرنا پھر بھی ٹیکس گزار کی اپنی ذمہ داری رہے گی۔
*تنخواہ دار طبقہ سب سے پہلے متاثر ہوگا*
نئے فارم میں تنخواہ دار افراد کو صرف سالانہ تنخواہ لکھنے سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں اپنے ایمپلائر کا نام، رجسٹریشن نمبر اور سال بھر میں کاٹے گئے ٹیکس کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کا عملی اثر یہ ہوگا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس نہیں کاٹ رہی تو ریٹرن فائل کرنے والے ملازمین کے ڈیٹا سے ایف بی آر کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ فلاں ایمپلائر نے تنخواہ دی مگر ودہولڈنگ ٹیکس جمع نہیں کرایا۔
یہاں سے *سیکشن 161* کے تحت ایمپلائر کے خلاف کارروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ جہاں ودہولڈنگ ایجنٹ ٹیکس کاٹنے کا پابند تھا مگر اس نے ٹیکس نہیں کاٹا، وہاں محکمہ اس واجب الادا رقم کا مطالبہ ودہولڈنگ ایجنٹ سے کر سکتا ہے۔ اسی لیے تنخواہ دار افراد اور ایمپلائرز دونوں کو جون 2026 کے اختتام سے پہلے اپنی ودہولڈنگ پوزیشن درست کر لینی چاہیے۔
*کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر آمدنی میں بھی تفصیل لازمی ہوگی*
پہلے کئی ٹیکس گزار پراپرٹی انکم، دیگر آمدنی یا زرعی آمدنی کو ایک ہی مجموعی رقم کے طور پر ظاہر کر دیتے تھے۔ اب رجحان یہ ہے کہ ہر پراپرٹی، ہر ادارے، ہر ذریعہ آمدنی اور زرعی زمین کی تفصیلات الگ الگ مانگی جائیں گی۔ پراپرٹی رینٹ کی صورت میں یہ بتایا جائے گا کہ کس پراپرٹی سے کتنا کرایہ آیا، اس کے خلاف کون سے قابل قبول اخراجات کلیم کیے گئے، اور خالص آمدنی کیا بنی۔
اسی طرح زرعی آمدنی میں صرف ایک رقم لکھ دینا کافی نہیں رہے گا۔ زرعی زمین کی جگہ، کھاتہ یا سروے نمبر، رقبہ، فصل، آمدنی اور متعلقہ صوبائی ریکارڈ سے مطابقت اہم ہو سکتی ہے۔ سندھ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں زرعی آمدنی کے صوبائی قوانین کے تحت پہلے سے جمع شدہ ریکارڈ کو انکم ٹیکس ریٹرن سے ہم آہنگ رکھنا ضروری ہوگا۔
*کاروباری طبقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ: ودہولڈنگ ٹیکس کی کراس میچنگ*
نئے فارم کا اصل مقصد صرف آمدنی پوچھنا نہیں بلکہ پورے مالی نظام کو کراس میچ کرنا ہے۔ کاروباری ادائیگیاں، وصولیاں، ودہولڈنگ ٹیکس، بینک ٹرانزیکشنز، سپلائرز اور کسٹمرز کا ڈیٹا ایک دوسرے سے ملایا جا سکے گا۔ اگر ایک شخص اپنے ریٹرن میں کسی کمپنی سے آمدنی یا ادائیگی ظاہر کرتا ہے، مگر دوسری طرف کمپنی نے اس پر ٹیکس نہیں کاٹا یا جمع نہیں کرایا، تو ایف بی آر کے لیے سیکشن 161 کے تحت سوال اٹھانا آسان ہو جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ریٹرن فائلنگ صرف “آمدنی لکھنے” کا کام نہیں رہے گا بلکہ ہر رقم کے پیچھے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کاروباری ہے یا نان بزنس، قابل ٹیکس ہے یا نہیں، اس پر ٹیکس کٹنا چاہیے تھا یا نہیں، اور اگر کٹا ہے تو CPR یا ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ سے اس کا ثبوت موجود ہے یا نہیں۔
*ریفنڈ سسٹم میں ممکنہ بہتری*
ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ نئے فارم میں ریفنڈ کے لیے بینک اکاؤنٹ اور ودہولڈنگ ڈیٹا کو زیادہ منظم طریقے سے شامل کرنے کا تصور نظر آتا ہے۔ اگر یہ نظام عملی طور پر درست کام کرے تو ٹیکس گزار کو ریفنڈ کے لیے بار بار ٹیکس آفس جانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ سہولت اسی وقت کارآمد ہوگی جب ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، بینک اکاؤنٹ، CNIC/NTN اور ریٹرن کا ڈیٹا آپس میں مکمل طور پر میچ کر رہا ہو۔
*فارم مئی میں جاری ہونا ایک بڑا اشارہ ہے*
عام طور پر ریٹرن فارم جولائی کے قریب آتے رہے ہیں، لیکن اس سال مئی میں ڈرافٹ فارم سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر فائلنگ سیزن کو یکم جولائی 2026 سے منظم طریقے سے شروع کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیکس ماہرین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جلد ڈرافٹ جاری کرنے کا مقصد ٹیکس گزاروں کو یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک مکمل فائلنگ وقت دینا ہو سکتا ہے۔
*ٹیکس گزاروں کے لیے عملی احتیاط*
ٹیکس سال 2026 کے لیے ہر ٹیکس گزار کو 30 جون کے بعد فوراً اپنا مکمل ڈیٹا ترتیب دینا چاہیے۔ بینک اسٹیٹمنٹ، تنخواہ سرٹیفکیٹ، کرایہ نامہ، پراپرٹی تفصیل، زرعی آمدنی کا ریکارڈ، خرید و فروخت، ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، گاڑی، جائیداد، بینک بیلنس اور سرمایہ کاری کی مکمل تفصیل پہلے سے تیار رکھی جائے۔
تنخواہ دار افراد خاص طور پر اپنے ایمپلائر سے یہ تصدیق کریں کہ ان کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس کاٹا اور جمع کرایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ایمپلائر نے ٹیکس نہیں کاٹا اور ملازم نے ریٹرن میں تنخواہ ظاہر کر دی تو بعد میں ایمپلائر پر ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے کا معاملہ بن سکتا ہے۔ پھر ایمپلائر ملازم سے رقم مانگے گا، جبکہ ملازم یہ کہے گا کہ اس نے اپنی طرف سے ریٹرن کے ساتھ ٹیکس ادا کر دیا تھا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جون کے اندر اندر سالانہ ٹیکس کی پوزیشن صاف کر لی جائے۔
نیا ریٹرن فارم بظاہر مشکل، تفصیلی اور عام آدمی کے لیے پیچیدہ ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: اب ایف بی آر صرف اعلان کردہ آمدنی نہیں دیکھے گا بلکہ بینک، ودہولڈنگ، کاروباری لین دین، تنخواہ، کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھے گا۔
لہٰذا اس سال ریٹرن فائلنگ میں جلد بازی، اندازے، غیر مکمل بینک سمری، یا بغیر قانونی سمجھ بوجھ کے فارم جمع کرانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر ٹیکس گزار کو چاہیے کہ وہ اپنا ریٹرن کسی ایسے ماہر سے تیار کرائے جو صرف فارم بھرنا نہ جانتا ہو بلکہ قانون، اکاؤنٹس، بینکنگ ٹرانزیکشنز، ودہولڈنگ ٹیکس اور قابل قبول اخراجات کی مکمل سمجھ رکھتا ہو۔
ٹیکس ریٹرن اب صرف ایک سالانہ رسم نہیں رہا، بلکہ آپ کی مکمل مالی پروفائل کا قانونی بیان بن چکا ہے۔ اس لیے احتیاط، تیاری اور درست مشاورت ہی بہترین تحفظ ہے.
Malik Qamar Altaf Advocate/Tax Consultant
03006405477
03336475477