FBR ٹیکس ریٹرن سروس

FBR  ٹیکس ریٹرن سروس become tax filer from reliable and expert consultants and get benefits of tax filing.lowest rate in Pakistan just 2000 per Year.
(1)

اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ایف بی آر (FBR) کا ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن نظام پاکستان کے ان پیچیدہ ترین نظا...
06/08/2026

اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ایف بی آر (FBR) کا ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن نظام پاکستان کے ان پیچیدہ ترین نظاموں میں سے ایک ہے جس کے متعلق 99 فیصد سے زیادہ لوگوں کو یہ آگاہی ہی نہیں کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے، ریٹرن فائل کیسے کی جاتی ہے، اس میں کن چیزوں کا عمل دخل ہے اور بالآخر اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔
جب 2017 یا 2018 کے دوران اس ڈیجیٹل نظام کا آغاز ہوا اور ساتھ ہی پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فائلر اور نان فائلر کے ٹیکسوں میں واضح فرق متعارف کرایا گیا، نیز بینکوں سے کیش نکلوانے (Cash Withdrawal) پر نان فائلرز کے لیے ٹیکس بڑھایا گیا، تو لوگ مجبوراً اس نظام کا حصہ بننے لگے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک افراد، رجسٹرڈ بزنس کرنے والے اور سرکاری ملازمین یکایک فائلر بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔
شروعات میں فائلر بننے اور ریٹرن فائل کرنے کا درست طریقہ کار خود عوام کو تو کیا، شاید اس نظام کو بنانے والے چند افراد کے علاوہ خود ایف بی آر کے عملے کو بھی صحیح سے واضح نہیں تھا۔ اگرچہ مینول اور طریقہ کار کی ویڈیوز میسر تھیں، لیکن انہیں سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔ چونکہ پراپرٹی کے بیشتر معاملات وکلاء برادری کے ذریعے طے پاتے ہیں، اس لیے اس کام کی ڈور بھی بڑی حد تک وکلاء، عرضی نویسوں اور اشٹام فروشوں نے سنبھال لی۔
ایک وکیل نے کام دیکھا، دوسرے نے سیکھا اور یوں "عطائی ٹیکس کنسلٹنٹس" کی ایک نئی مارکیٹ قائم ہو گئی۔ جن لوگوں کو پراپرٹی کی خرید و فروخت میں لاکھوں کا فائدہ نظر آتا تھا، انہوں نے ان عطائیوں کو پانچ منٹ کے کام کے ہزاروں روپے دینا شروع کر دیے۔ نتیجتاً، ایسے لوگوں کی زیرو (Zero) ریٹرن فائل کی جانے لگی؛ نہ کوئی آمدن دکھائی گئی، نہ اثاثے شو کیے گئے، بس ایک ہزار کا چالان بھرا اور بندہ فائلر بن گیا۔ کلائنٹ کا کام نکل جاتا اور وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھتا کہ اس کے شناختی کارڈ پر ایف بی آر کے ریکارڈ میں کیا غلط بیانی کی جا چکی ہے۔
یہ سچ ہے کہ تمام وکلاء یا ٹیکس کنسلٹنٹس ایک جیسے نہیں تھے؛ کچھ پیشہ ور افراد نے اس کام پر محنت کی، باریکیوں کو سمجھا اور مستقبل کے نتائج کو مدنظر رکھا۔ لیکن جب مارکیٹ میں ہزار دو ہزار روپے میں کام کرنے والے بیٹھے ہوں، تو عوام بھی پانچ دس ہزار روپے دینے کو تیار نہیں ہوتی تھی۔
اب جبکہ 2026 آ چکا ہے، تو نظام زیادہ خودکار اور سخت ہو چکا ہے۔ اب وہی عطائی کنسلٹنٹ بھی پریشان ہیں اور وہ عام عوام بھی، جس کے گلے میں پچھلے سالوں کی "باریک واردات" پڑ چکی ہے۔ اب ایف بی آر کا ڈجیٹل سسٹم ڈیٹا کو آپس میں مربوط کر رہا ہے اور حساب پورا کا پورا ہو رہا ہے۔ اس سال بھی لینے کے دینے پڑ رہے ہیں اور پچھلے سالوں کا غبن بھی سامنے آ رہا ہے۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میری ٹیکس کنسلٹنٹ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے: خدا را! اب کسی کے ساتھ ظلم نہ کرنا، اب سیکھ لینا۔ کام کرنے سے آپ کو کوئی نہیں روکتا، لیکن پہلے تحقیق کریں، قانون کو سمجھیں اور صرف چند روپوں کے لالچ میں کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور ریکارڈ خراب نہ کریں۔
اسی طرح عوام سے بھی گزارش ہے کہ اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ جو بھی معلومات، بینک سٹیٹمنٹ یا اثاثے وہ پوچھیں، بالکل سچ سچ بتائیں۔ شارٹ کٹ ڈھونڈنے کے بجائے اپنے کنسلٹنٹ کو اس کی محنت کے مناسب پیسے دیں تاکہ وہ تسلی بخش کام کر سکے اور آپ آئندہ کسی بھی قانونی نوٹس یا پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔

12/07/2026
25/09/2024

*فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان فائلرزکی کیٹیگری ختم کرنے کا فیصلہ*

ایف بی آر نے ٹیکس نہ دینے والوں پر 15 پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ،نان فائلرز پر لگائی جانے والی پابندیوں میں جائیداد، گاڑیوں، بین الاقوامی سفر ، کرنٹ اکاﺅنٹ کھولنے اور میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کرنا شامل ہیں،ایف بی آر کا مقصد ٹیکس کمپلائنس کو بڑھانا اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے جس کے تحت نان فائلرز کو نشانہ بنانے کیلئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لانگریال کا کہنا ہے کہ نان فائلرزکیلئے 15 مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی جن میں ابتدائی طور پر 5 شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ یہ اقدامات وزیر اعظم کی منظوری سے ایف بی آر کے تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

حکومت نان فائلر کیٹیگری کو ختم کر رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ افراد جو پہلے ان لین دین پر ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کیلئے ایک معمولی فیس ادا کرتے تھے اب ایسا نہیں کر سکیں گے۔

چیئرمین ایف بی آر نے نان فائلرز کے تصور پر تنقید کی اور کہا کہ ایسی درجہ بندیاں دنیا بھر میں نہیں پائی جاتیں اس لئے انہیں ختم کر دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہاہم جدید مشین لرننگ اور الگورڈمز کے ذریعے نان فائلرز کی شناخت کریں گے۔ایف بی آر ملک بھر میں اہم داخلی مقامات پر سمگلنگ کے خلاف کارروائی کیلئے آٹومیشن اور افرادی قوت میں اضافہ کر رہا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کا مزید کہنا تھا کہ بتدریج نان فائلرز کی 15 قسم کی ٹرانزیکشنز پر پابندی لگائی جائے گی ان میں غیر مذہبی مقاصد کا سفر بھی شامل ہوگا۔ چیک کے ذریعے کیش نکالنے کی حد بھی 3 کروڑ روپے سالانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیک کے ذریعے کیش نکالنے پر دباﺅ بڑھانے کیلئے سٹیٹ بینک کے ذریعے بینکوں کو معلومات شیئر کی جائے گی۔
حکومت جلد وہ جائیدادیں خریدنا شروع کر دے گی جن کی لاگت ٹیکس ریٹرنز میں مارکیٹ ریٹ سے کم ظاہر کی گئی ہے۔گزشتہ سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے کی فیس جمع کی گئی جبکہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں ہوا۔ نئی پالیسی کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاونٹس کھولنے سے روکا جائے گا۔پچھلے سال نان فائلرز سے صرف 25 ارب روپے فیس کی مد میں جمع ہوئے جبکہ ان افراد سے ممکنہ ٹیکس ریونیو ابھی بھی وصول نہیں کیا جا سکا۔ نئی پالیسیوں کے تحت، نان فائلرز کو روایتی بینک اکاﺅنٹس کھولنے سے روکا جائے گا۔
03317343640

21/09/2024

The Federal Board of Revenue (FBR) has proposed key amendments to the Income Tax Rules, 2002 through SRO 1448(I)/2024 Dated 18th Sep, 2024.

Summary of key Amendments:
1: 𝐀𝐜𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐓𝐚𝐱𝐩𝐚𝐲𝐞𝐫𝐬' 𝐋𝐢𝐬𝐭 (𝐀𝐓𝐋): The reference for publishing the Active Taxpayers' List (ATL) is updated to section 181A of the Income Tax Ordinance.

2: 𝐀𝐓𝐋 𝐈𝐧𝐜𝐥𝐮𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐂𝐫𝐢𝐭𝐞𝐫𝐢𝐚: A person's name will be included in the ATL if they file their income tax return for the latest tax year by the due date or extended due date (if applicable).

3: 𝐋𝐚𝐭𝐞 𝐅𝐢𝐥𝐞𝐫𝐬: If the return is filed after the due date, taxpayers can still be included in the ATL by paying the surcharge under section 182A.

4: 𝐀𝐓𝐋 𝐔𝐩𝐝𝐚𝐭𝐞 𝐒𝐜𝐡𝐞𝐝𝐮𝐥𝐞: The ATL will now be updated on a 𝐝𝐚𝐢𝐥𝐲 𝐛𝐚𝐬𝐢𝐬 instead of weekly i.e. every Sunday at 24:00.

5: 𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬 𝐟𝐨𝐫 𝐂𝐨𝐦𝐩𝐚𝐧𝐢𝐞𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐀𝐎𝐏𝐬: Newly incorporated companies or AOPs incorporated after June 30th will automatically be included in the ATL, even if their tax return is not yet due.

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FBR ٹیکس ریٹرن سروس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share