Sahito Asad Advocate & Tax Consultant

Sahito Asad Advocate & Tax Consultant Legal Counsel and Tax Advisor

NADRA has confirmed that online biometric verification through the PakID mobile app has been developed and is expected t...
30/08/2026

NADRA has confirmed that online biometric verification through the PakID mobile app has been developed and is expected to become operational in the first week of September 2026. This will allow individual taxpayers, sole proprietors, and overseas Pakistanis to complete biometric verification remotely without visiting a physical centre. NADRA is also working with FBR to recognize PakID biometric verification as an alternative to the existing e-Sahulat facility.

16/08/2026

*⚖️ ایف آئی آر ختم کروانے کا مکمل قانونی طریقہ کار - ایک جامع قانونی رہنمائی ⚖️*

*تحریر: ارون پرساد*
*ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ممبر سندھ بار کونسل*

---

*تمہید: مسئلے کی سنگینی*

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں "ایف آئی آر کلچر" کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔ کاروباری دشمنی، ذاتی رنجش، زمین کا تنازعہ یا محض دباؤ ڈالنے کے لیے جھوٹی اور فرضی کہانیوں کی بنیاد پر تھانے میں ایف آئی آر درج کروا دی جاتی ہے۔

اس کا مقصد انصاف حاصل کرنا نہیں بلکہ مخالف فریق کو تھانے کچہری کے چکر لگوانا، مالی و سماجی طور پر بدنام کرنا اور ذہنی اذیت دینا ہوتا ہے۔

لیکن یہ جان لینا ضروری ہے کہ *پاکستان کا قانون اس معاملے میں بالکل خاموش نہیں ہے*۔ ہمارے قانون میں جھوٹے مقدمات کا سدِباب کرنے کے لیے واضح اور مؤثر طریقہ کار موجود ہے۔

اس تفصیلی مضمون میں ہم مرحلہ وار جانیں گے کہ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز کسی جھوٹے یا بے بنیاد مقدمے میں پھنس گیا ہے تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے وہ اپنی جان کیسے چھڑا سکتا ہے۔

---

*حصہ اول: ایف آئی آر کیا ہے اور اسے چیلنج کیوں کیا جا سکتا ہے؟*

*ایف آئی آر - First Information Report* ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت تھانے میں درج ہونے والی وہ پہلی اطلاع ہے جس سے کسی قابلِ دست اندازی جرم کا آغاز ہوتا ہے۔

لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے متعدد فیصلوں میں قرار دیا ہے کہ *"ایف آئی آر مقدس نہیں ہے"*۔ اگر ایف آئی آر خود بدنیتی، جھوٹ اور قانون کے غلط استعمال پر مبنی ہو تو عدالت اسے شروع میں ہی ختم کر سکتی ہے۔

*ایف آئی آر کب "جھوٹی" اور "قابلِ تنسیخ" سمجھی جاتی ہے؟*
1. *بدنیتی Malafide*: جب مقدمہ ذاتی دشمنی یا ہراساں کرنے کے لیے درج کروایا گیا ہو۔
2. *تاخیر Delay*: بغیر کسی معقول وجہ کے واقعہ کے کئی دن بعد ایف آئی آر درج کروانا۔
3. *قانونی تقاضے پورے نہ ہونا*: واقعہ میں کوئی جرم ہی نہ بنتا ہو۔ مثلا سول تنازعہ کو فوجداری رنگ دینا۔
4. *ثبوت کا فقدان*: ایف آئی آر میں لکھی گئی کہانی کا کوئی سر پیر ہی نہ ہو۔

---

*حصہ دوم: ایف آئی آر ختم کروانے کے 4 قانونی راستے*

قانون نے مختلف مراحل کے لیے مختلف راستے دیے ہیں۔ مقدمہ جس مرحلے پر ہے اس کے مطابق درخواست دی جاتی ہے۔

*راستہ نمبر 1: چالان پیش ہونے سے پہلے - ہائی کورٹ کا اختیار | دفعہ 561-A ض ف اور آرٹیکل 199 آئین*

یہ سب سے طاقتور اور جلدی والا طریقہ ہے۔ جیسے ہی آپ کو پتہ چلے کہ آپ کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج ہو گئی ہے اور ابھی پولیس تفتیش کر رہی ہے، چالان عدالت میں پیش نہیں ہوا، تو فوراً ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

*قانونی بنیاد:*
1. *دفعہ 561-A ضابطہ فوجداری*: یہ ہائی کورٹ کو "Inherent Powers" دیتی ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور عدالت کے عمل کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کوئی بھی حکم جاری کر سکتی ہے۔
2. *آرٹیکل 199 آئین پاکستان*: ہائی کورٹ کسی بھی سرکاری عمل کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر سکتی ہے۔

*کب استعمال کریں؟*
جب ایف آئی آر میں کوئی جرم ہی نہ بنتا ہو۔ جب الزامات بالکل جھوٹے اور ناقابلِ یقین ہوں۔ جب ایف آئی آر محض ہراساں کرنے کے لیے ہو۔

*اہم کیس لاز:*
- *PLD 2005 SC 530*: سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر ایف آئی آر کے متن سے ہی جرم ثابت نہ ہو تو ہائی کورٹ اسے 561-A کے تحت ختم کر سکتی ہے۔
- *2024 SCMR 205*: ڈیجیٹل ثبوت کے بغیر صرف فوٹو/ویڈیو پر ایف آئی آر کو ہائی کورٹ نے ختم کیا۔

*طریقہ کار*: اپنے وکیل کے ذریعے متعلقہ ہائی کورٹ میں "Criminal Miscellaneous Application U/S 561-A CrPC" دائر کریں۔ اس کے ساتھ ایف آئی آر کی کاپی، شواہد اور حلف نامہ لگائیں۔

*راستہ نمبر 2: ٹرائل کے دوران - مجسٹریٹ کی عدالت | دفعہ 249-A ض ف*

اگر پولیس تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کر چکی ہے اور ٹرائل شروع ہو گیا ہے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

*دفعہ 249-A ضابطہ فوجداری* مجسٹریٹ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر اگر یہ سمجھے کہ ملزم کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور اسے سزا کا کوئی امکان نہیں ہے، تو وہ ملزم کو فوری طور پر بری کر سکتی ہے۔

*کب فائدہ مند ہے؟*
چھوٹے مقدمات، قابلِ صلح جرائم، یا جہاں استغاثہ کے گواہ عدالت میں آ کر بیان سے مکر جائیں۔

*راستہ نمبر 3: ٹرائل کے دوران - سیشن کورٹ | دفعہ 265-K ض ف*

سنگین جرائم جیسے قتل، ڈکیتی وغیرہ سیشن کورٹ میں چلتے ہیں۔

*دفعہ 265-K ضابطہ فوجداری* سیشن جج کو اختیار دیتی ہے کہ چارج فریم ہونے کے بعد اور گواہوں کے بیانات سے پہلے ہی اگر کیس میں کوئی جان نہ ہو تو وہ ملزم کو بری کر دے۔

یہ دفعہ "Further Inquiry" کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اگر کیس میں شک کی گنجائش ہے تو عدالت ملزم کو ٹرائل کی اذیت سے بچا لیتی ہے۔

*راستہ نمبر 4: پولیس کا اپنا اختیار | پولیس رولز 1934 - رول 24.7*

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پولیس کے پاس بھی اختیار ہے۔

*پولیس رولز 1934 کے رول 24.7* کے تحت اگر ایس ایس پی یا ڈی آئی جی کی سطح کا افسر تفتیش کے دوران اس نتیجے پر پہنچے کہ ایف آئی آر جھوٹی، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہے تو وہ اعلیٰ افسران کی منظوری سے اسے "Class C" میں ڈال کر منسوخ کر سکتا ہے۔

*اہم*: اس کے لیے ٹھوس شواہد دینا ہوں گے کہ الزامات جھوٹے ہیں۔ یہ راستہ اس وقت بہتر ہے جب آپ کے پاس شروع میں ہی ثبوت موجود ہوں۔

---

*حصہ سوم: جھوٹی ایف آئی آر درج کروانے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟*

قانون صرف ملزم کو بچانے کی بات نہیں کرتا بلکہ جھوٹ بولنے والے کو سزا بھی دیتا ہے۔

1. *دفعہ 182 تعزیرات پاکستان PPC*: جو شخص سرکاری افسر کو جھوٹی اطلاع دے کر اسے تکلیف میں ڈالے، اسے 6 ماہ قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
2. *دفعہ 193 PPC*: عدالت میں جھوٹی گواہی دینے کی سزا 7 سال تک قید ہے۔
3. *دفعہ 211 PPC*: کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے جھوٹا فوجداری مقدمہ درج کروانا - 7 سال تک قید۔
4. *ہتک عزت کا دعویٰ*: آپ سول عدالت میں ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کر سکتے ہیں۔

---

*حصہ چہارم: عملی اقدامات - آپ کو کیا کرنا چاہیے؟*

اگر آپ جھوٹے مقدمے کا شکار ہیں تو یہ 5 قدم فوراً اٹھائیں:

1. *گھبرائیں نہیں*: قانونی راستہ موجود ہے۔
2. *فوراً وکیل سے رابطہ کریں*: وقت بہت اہم ہے۔ چالان سے پہلے 561-A زیادہ مؤثر ہے۔
3. *شواہد اکٹھے کریں*: کال ریکارڈ، واٹس ایپ چیٹ، گواہ، CCTV فوٹیج۔ 2024 SCMR 205 کے بعد فرانزک ثبوت بہت اہم ہیں۔
4. *ضمانت کروائیں*: گرفتاری سے بچنے کے لیے فوری ضمانت قبل از گرفتاری دائر کریں۔
5. *جوابی کارروائی*: بریت کے بعد جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے کے خلاف 182 اور 211 PPC کے تحت کارروائی کریں۔

---

*نتیجہ: قانون آپ کے ساتھ ہے*

یاد رکھیں، *"انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے"* لیکن *"جھوٹے مقدمے، انصاف کا قتل ہیں"*۔

ہمارا عدالتی نظام جھوٹے مقدمات کو ختم کرنے کے لیے مکمل طور پر لیس ہے۔ بس ضرورت ہے قانونی حقوق سے آگاہی کی اور وقت پر صحیح قانونی قدم اٹھانے کی۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو خاموش نہ بیٹھیں۔ قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔

*"قانون سے لاعلمی عذر نہیں، لیکن قانون سے آگاہی نجات ہے"*

---

*ڈسکلیمر*: یہ معلومات صرف قانونی آگاہی کے لیے ہیں۔ ہر کیس کے حقائق مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی بھی قانونی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔

08/08/2026

"پچھلے سال تو 5 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟

یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ٹیکس ریٹرن کے بارے میں موجود ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

لوگ اکثر ریٹرن فائل کرواتے وقت صرف فیس دیکھتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی ریٹرن میں کیا ڈکلیئر کیا جا رہا ہے، کیا چھوڑا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس کے قانونی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

میرے پاس اب تک جتنی ریٹرنز ریویو اور درستگی کے لیے آئیں، ان میں اکثر میں بنیادی غلطیاں موجود تھیں۔

کسی کے Assets درست ڈکلیئر نہیں تھے، کسی کے مکمل Assets ظاہر نہیں کیے گئے، کسی کی Wealth Statement میں مطابقت نہیں تھی، کسی کی آمدن اور اخراجات کا حساب درست نہیں تھا، جبکہ بعض کیسز میں گزشتہ سالوں کا ریکارڈ بھی صحیح طریقے سے carry forward نہیں کیا گیا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی افراد کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا ٹیکس ریکارڈ خراب کر رہے ہیں۔

صرف اس لیے کہ کسی نے پچھلے سال 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریٹرن درست، مکمل یا قانونی طور پر محفوظ بھی تھی۔

Income Tax Return صرف ایک فارم نہیں۔
یہ آپ کی آمدن، اثاثہ جات، سرمایہ کاری، اخراجات اور مالی حیثیت کا سرکاری ریکارڈ ہے۔

آج چند ہزار روپے کی فیس بچانے کے لیے اگر آپ غلط یا نامکمل ریٹرن فائل کروا لیتے ہیں، تو کل یہی غلطی Tax Notice، Audit، Wealth Reconciliation یا Assets کے ذرائع کی وضاحت کی صورت میں آپ کے لیے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

سستی ریٹرن اور درست ریٹرن میں فرق سمجھیں۔

ایک ذمہ دار Tax Professional کا کام صرف ریٹرن submit کرنا نہیں، بلکہ کلائنٹ کے مکمل ٹیکس پروفائل، Assets، Wealth Statement اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درست اور ذمہ دارانہ طریقے سے ریٹرن تیار کرنا ہے۔

اپنے ٹیکس ریکارڈ کو چند ہزار روپے کے لیے خطرے میں نہ ڈالیں۔

کم فیس نہیں، درست اور محفوظ ٹیکس کمپلائنس کو ترجیح
دیں۔
(Copied Texted Facebook wall)

**📢 چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری – ایف بی آر کا مجوزہ آسان ٹیکس نظام**ایف بی آر نے **SRO 1109(I)/2026** کے ذریعے چ...
15/07/2026

**📢 چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری – ایف بی آر کا مجوزہ آسان ٹیکس نظام**

ایف بی آر نے **SRO 1109(I)/2026** کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک **آسان اور اختیاری (Optional)** ٹیکس نظام کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس پر عوام سے **7 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات** طلب کیے گئے ہیں۔

**اہم نکات:**

✅ سالانہ ٹرن اوور **2 کروڑ نہیں بلکہ 20 کروڑ روپے (PKR 200 Million)** تک کے اہل دکاندار اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

✅ ٹیکس صرف **1% گراس ٹرن اوور** کے حساب سے ہوگا، جبکہ کم از کم **25,000 روپے** ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا۔

✅ اس اسکیم میں شامل دکانداروں کو عام طور پر **آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا**، سوائے مخصوص معاملات کے۔

✅ **سیکشن 153 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس** کاٹنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی، اور **سیکشن 113 کی کم از کم ٹیکس** کی شق بھی لاگو نہیں ہوگی۔

✅ اہل دکانداروں کو **POS یا Digital Invoicing** سسٹم لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

⚠️ یاد رہے کہ یہ ابھی **صرف مجوزہ (Draft) اسکیم** ہے، حتمی قانون نہیں۔ ایف بی آر تجاویز موصول ہونے کے بعد اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

Karachi Bar Association Election Result.
11/07/2026

Karachi Bar Association Election Result.

*Welcoming Tax Year 2026–27!**A new fiscal year brings renewed energy, fresh challenges, and countless opportunities to ...
01/07/2026

*Welcoming Tax Year 2026–27!*

*A new fiscal year brings renewed energy, fresh challenges, and countless opportunities to grow and excel. May this year lead to improved compliance, stronger collaborations, and greater success for everyone in the tax and business community.*

*Extending best wishes to all professionals, practitioners, valued clients, and stakeholders for a smooth and prosperous year ahead.*

*Let’s continue playing our part in building a transparent and robust tax culture in Pakistan with team Taxation Accounting and Finance Updates*

*Happy New Tax Year 2026–27!🇵🇰*

ٹیکس ریٹرن اپڈیٹ مکمل پڑھیں *شاید آپ کو گمراہ کیا جا رہا ہے!*30 جون، 25 ہزار روپے، ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج اور سوشل ...
30/06/2026

ٹیکس ریٹرن اپڈیٹ مکمل پڑھیں

*شاید آپ کو گمراہ کیا جا رہا ہے!*
30 جون، 25 ہزار روپے، ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات، حقیقت کیا ہے؟
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک ہی قسم کے پیغامات تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں۔ کہیں کہا جا رہا ہے کہ "30 جون سے پہلے پہلے ٹیکس ریٹرن فائل کر دیں، ورنہ ایف بی آر اکاؤنٹ سے پیسے نکال لے گا۔" کہیں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ "30 جون کے بعد پہلی بار ریٹرن فائل کرنے والوں کو لازماً 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔" بعض پوسٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ "30 جون انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ ہے۔" ان پیغامات نے ہزاروں افراد کو پریشان کر دیا ہے، لیکن جب قانون اور حقائق کو دیکھا جائے تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 30 جون انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ نہیں بلکہ مالی سال کے اختتام کی تاریخ ہے۔ ہر سال مالی سال ختم ہونے کے بعد ایف بی آر نئے ٹیکس سال کی ریٹرنز وصول کرنا شروع کرتا ہے۔ قانون کے مطابق ریٹرن جمع کرانے کی مقررہ مدت عموماً یکم جولائی سے 30 ستمبر تک ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں میں ایف بی آر مختلف انتظامی وجوہات کی بنا پر اس تاریخ میں توسیع بھی کرتا رہا ہے، جس کے باعث متعدد مرتبہ آخری تاریخ اکتوبر تک بڑھائی گئی۔ اس لیے 30 جون کو آخری تاریخ قرار دے کر لوگوں کو خوفزدہ کرنا درست نہیں۔
اصل معاملہ فنانس ایکٹ 2026 میں کی گئی ایک اہم تبدیلی کا ہے، جس کا تعلق ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج سے ہے۔ پہلے یہ سرچارج 1,000 روپے تھا، جسے اب بڑھا کر 25,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے اسی ایک تبدیلی کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے 30 جون کے بعد ہر شخص یا ہر نئے فائلر کو لازماً 25 ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ حالانکہ قانون ایسا نہیں کہتا۔
سوال یہ ہے کہ ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج آخر ہوتا کیا ہے؟
ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ دراصل ایف بی آر کی وہ فہرست ہے جس میں بروقت انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے افراد اور کاروبار شامل ہوتے ہیں۔ اس فہرست میں شامل افراد کو مختلف مالی معاملات میں کم ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر قانونی سہولیات حاصل ہوتی ہیں، جبکہ اس فہرست سے باہر افراد کو زیادہ شرح سے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔
ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سرچارج ایک اضافی فیس ہے جو مخصوص حالات میں ایسے شخص سے وصول کی جاتی ہے جو مقررہ وقت پر ریٹرن جمع نہ کرانے کی وجہ سے اس فہرست سے باہر ہو جائے اور بعد میں دوبارہ اس فہرست میں شامل ہونے کی درخواست کرے۔ فنانس ایکٹ 2026 کے تحت اسی سرچارج کو 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر نیا فائلر یا 30 جون کے بعد پہلی بار ریٹرن جمع کرانے والا ہر شخص خودکار طور پر 25 ہزار روپے ادا کرے گا۔
اسی طرح یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ 30 جون کو ایف بی آر خود بخود لوگوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم نکال لے گا۔ ایف بی آر کے تمام اختیارات قانون کے تابع ہیں اور کسی بھی کارروائی کے لیے باقاعدہ قانونی طریقۂ کار، نوٹسز اور دیگر تقاضے موجود ہیں۔ صرف سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پیغامات کی بنیاد پر یہ سمجھ لینا کہ 30 جون کو خودکار کٹوتیاں شروع ہو جائیں گی، حقیقت پر مبنی بات نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ افراد صرف چند پیسوں کی خاطر عوام میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ آدھی ادھوری یا غلط معلومات شیئر کر کے لوگوں کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر آج ہی ریٹرن فائل نہ کروائی گئی تو بھاری نقصان ہو جائے گا۔ اس خوف کی فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھڑا دھڑ ریٹرنز فائل کی جا رہی ہیں، حالانکہ ایک ذمہ دار ٹیکس مشیر یا پیشہ ور ماہر کا فرض ہے کہ وہ قانون کی درست تشریح کرے، نہ کہ لوگوں کی بے چینی کو کاروبار کا ذریعہ بنائے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریٹرن فائل نہ کی جائے۔ اگر آپ قانون کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے پابند ہیں تو اسے مقررہ وقت پر ضرور جمع کرائیں۔ بروقت ریٹرن جمع کرانے سے آپ ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل رہتے ہیں، کم ودہولڈنگ ٹیکس کی سہولت حاصل کرتے ہیں اور مستقبل میں غیر ضروری سرچارج یا دیگر قانونی پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
(Copied text )

16/06/2026

Tax Return 2026 Alert.
جیسا کہ آپکو معلوم ہے 30 جون آ رہا ہے اور جولائی کے مہینہ سے 2026 کے گوشوارے جمع ہونے شروع ہو جائیں گے. تو آپ مندرجہ زیل ہدایات پر عمل کرلیں.

1) اپنا بینک بیلنس اپنی ویلتھ سٹیٹمینٹ کے مطابق کر لیں اضافی رقم بینک سے نکلوا لیں. ورنہ اضافی رقم ایڈجسٹمنٹ کرنی مشکل کو جائے گی.
2) 2025-26 سال کے دوران جو پراپرٹی بیچی یاں خریدی ہے اسکا ڈیٹا اکٹھا کر لیں. ایڑریس قیمت مرلے وغیرہ.
3) اپنی سالانہ انکم کیلکولیٹ کر لیں. تنخواہ یاں کاروباری انکم.
4) اپنے سالانہ اخراجات ہیڈ وائیز لکھ لیں.
5) ٹیکس کٹوتیاں سیکشن وائیز لکھ لیں. مثلاً Deduction certificate on electricity bill, mobile bill, bank account, tax deduction on goods sales purchase.

6)اگر کوئی پلاٹ اقساط پر لیا ہوا ہے تو کتنی اقساط ادا ہو گئ کتنی بقایا.
7) اگر کوئی انشورنس پالیسی لی ہوئی ہے تو اسکی تفصیل.
8) اگر کوئی گاڑی لیز پر لی ہوئی ہے تو اسکی اقساط کی تفصیل.
9) اگر سال کے دوران سونا خریدا یاں بیچا ہے تو اسکی تفصیل.
10) اگر بینک سے قرض لیا ہوا اسکی تفصیل.
11) اگر سال کے دوران کوئی گفٹ (پلاٹ، گاڑی) ملا ہو تو اسکا اسٹام پیپر.
12) اگر بیرون ممالک سے Foreign remittance وصول کیے ہیں تو اسکا (FOREIGN REMITENCE CERTIFICA

Copied

فيڊرل بورڊ آف روينيو FBR طرفان Goods Evaluator جي 280 خالي پوسٽن جي ڀرتين لاء اشتھار جاري.. اپلائي ڪرڻ جي آخري تاريخ 02 ...
17/05/2026

فيڊرل بورڊ آف روينيو FBR طرفان Goods Evaluator جي 280 خالي پوسٽن جي ڀرتين لاء اشتھار جاري..
اپلائي ڪرڻ جي آخري تاريخ 02 جون 2026 مقرر..

Address

S-49 2nd Floor Glass Tower Near Teen Talwar Clifton Karachi
Karachi
75600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahito Asad Advocate & Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share